نئی دہلی ،30؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) یکم مئی کی بات ہو تو ’مزدورڈے‘ کا ذکر آنا فطری ہے۔دنیا میں مزدور ڈے منانے کی روایت تقریباً 132 سال پرانی ہے۔ مزدوروں نے کام کے گھنٹے طے کرنے کی مانگ کو لے کر 1877میں تحریک شروع کی، اس دوران یہ دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلنے لگا۔ایک مئی 1886 کو پورے امریکہ لاکھوں مزدوروں نے ایک ساتھ ہڑتال شروع کی۔اس میں 11,000 فیکٹریوں کے کم از کم تین لاکھ اسی ہزار مزدور شامل ہوئے اور وہیں سے ایک مئی کو مزدور ڈے کے طور پر منانے کا آغاز ہوا۔یکم مئی کی تاریخ بہت سے دوسرے واقعات کی بھی گواہ رہی ہے۔ایسے ہی چند واقعات کا سلسلہ وار تفصیلات مندرجہ ذیل ہے۔1840برطانیہ نے پہلا سرکاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔1886امریکہ کے شکاگو میں مزدوروں کے لئے کام کے گھنٹوں طے کرنے کو لے کر ہڑتال، ایک مئی کو بین الاقوامی مزدور دن قرار دیا گیا۔1897سوامی وویکانند نے رام کرشن مشن قائم کی۔1908پرفل چاکی نے مظفر پور بم اسکینڈل کو انجام دینے کے بعد خود کو گولی مار دی۔1914کار ڈویلپر فورڈ وہ پہلی کمپنی بنی جس نے اپنے ملازمین کے لئے آٹھ گھنٹے کام کرنے کا اصول نافذ کیا۔1923بھارت میں یوم مئی منانے کا آغاز۔1956جونسا سالک کی طرف سے تیار پولیو ویکسین عوام کے لئے فراہم کردہ۔1960 مہاراشٹر اور گجرات علیحدہ ریاست بنے۔ 2009سویڈن نے ہم جنس شادی کی منظوری دے دی۔